العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔

رسائی نیوز اسلام آباد:احتساب عدالت میں نواز شریف کے خلاف دو نیب ریفرنسز کی سماعت شروع ہوئی تو جج محمد ارشد ملک نے استفسار کیا کہ کیوں نہ پہلے العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کا342 کا بیان ریکارڈ کرلیں۔ وکیل صفائی خواجہ حارث نے کہا کہ پہلے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کرلی جائے کیونکہ وہ تفتیشی افسر محمد کامران کے بیان پر کچھ اعتراض ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں اور پھر اس کے بعد سپریم کورٹ بھی جانا ہے۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ اگر اعتراضات تحریری ہیں تو دے دیں، گزشتہ ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے گا۔ فلیگ شپ ریفرنس کے آخری گواہ اور تفتیشی افسر محمد کامران نے خواجہ حارث کی جرح کے دوران بتایا کہ نیب میں شکایت موصول ہونے پر سب سے پہلے اس کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ مزید کارروائی کرنی ہے یا نہیں۔ شکایت پر مزید کارروائی کا فیصلہ چیئرمین نیب کرتے ہیں مگر وہ کبھی کبھار کسی ڈی جی کو بھی فیصلے کا اختیار دے دیتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں شکایت کی تصدیق کی جاتی ہے جس کے بعد دوسرے مرحلے میں انکوائری شروع ہوتی ہے اور تفتیشی افسر کو انکوائری کرنے کا کہا جاتا ہے۔ انکوائری میں جو بھی شواہد حاصل ہوں وہ رپورٹ مجاز اتھارٹی کو دی جاتی ہے۔ جج محمد ارشد ملک نے وکیل صفائی کو ہدایت کی کہ گواہ سے صرف مذکورہ کیس سے متعلق سوال کیا جائے۔ وکیل صفائی کے سوال پر تفتیشی افسر محمد کامران نے بتایا کہ فلیگ شپ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کیا۔ 28 جولائی 2017 کا سپریم کورٹ کا فیصلہ خود بھی پڑھا تھا۔ عدالت نے نواز شریف، حسن اور حسین نواز کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا کہا تھا۔ یہ درست ہے کہ عدالتی فیصلے پر عمل کرنے کے سواء دوسرا کوئی آپشن نہیں تھا۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے خواجہ حارث کے سوالات پر اعتراض کیا اور کہا کہ تفتیشی افسر سے قانونی نوعیت کے سوالات نہیں پوچھے جا سکتے کیونکہ تفتیشی افسر قانونی ماہر نہیں ہے۔ محمد کامران نے بتایا کہ فلیگ شپ ریفرنس ان کی تفتیش کی بنیاد پر دائر کیا گیا۔ 29 اگست 2017 کو اپنی تفتیش مکمل کرلی تھی۔ جے آئی ٹی نے 27 جولائی 2017 کو برطانیہ کی سینٹرل اتھارٹی کو دو ایم ایل اے لکھے۔ ان میں سے ایک ایم ایل اے میری تحقیقات سے متعلقہ تھا۔ اس ایم ایل اے میں حسن نواز کی جانب سے جے آئی ٹی کو بتائے گئے سولیسٹر کا نام درج تھا۔ حسن نواز کے بیان کے مطابق یہ سولیسٹر ان کی کمپنیوں کے معاملات دیکھتے تھے۔ ایم ایل اے میں نیلسن، نیسکال اور کومبر گروپ سے متعلق بھی معلومات مانگی گئی تھیں۔ یہ درست ہے کہ تینوں کمپنیاں حسن نواز کی ملکیت نہیں ہیں جبکہ ایم ایل اے میں حسن نواز کی کمپنیوں کا نام درج نہیں تھا۔ سماعت کے دوران جج ارشد ملک اور خواجہ حارث کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ خواجہ حارث نے جج ارشد ملک سے گلہ کیا کہ وہ جو بھی سوال کرتے ہیں تو جواب دینے کے لیے چار چار لوگ تفتیشی افسر کی مدد کرنے آجاتے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر اور آپ گواہ کی مدد کررہے ہیں۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ گواہ کی مدد کرنے کی بات نہیں۔ گواہ کی جو بات سمجھ آئی وہ لکھوا دی، جو بات گواہ کر رہا ہے اسے ہی ریکارڈ پر آنا چاہئے۔ عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت منگل تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں