افغان صورتحال اور افغانستان میں ابھرتے ہوئے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے، لائحہ عمل کی تشکیل کیلئے” ٹرائیکا پلس “کا اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔: افغانستان سے متعلق “ٹرائیکا پلس” کا اجلاس جمعرات کو وزارت خارجہ میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود ،افغانستان میں پاکستان کے سفیر ایمبیسڈر منصور احمد خان ،پاکستان کے نمائندہ ء خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق ،امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ڈپٹی اسٹنٹ سیکرٹری ،تھامس ویسٹ، روس کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان، ضمیر کابلوف، چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ،یاؤ یاؤ یانگ شریک ہوئے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے “ٹرائیکا پلس” اجلاس میں شرکت کیلئے آئے ہوئے نمائندگان خصوصی کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی صورتحال اور افغانستان میں ابھرتے ہوئے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے، لائحہ عمل کی تشکیل کیلئے” ٹرائیکا پلس “کا اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان، قریبی ہمسایہ ہونے کے ناطے، افغانستان میں گذشتہ چار دہائیوں سے جاری، خون ریزی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ افغانستان میں امن و استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے انتہائی ناگزیر ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عالمی برادری، افغان شہریوں کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے، ان کی فوری انسانی معاونت کو یقینی بنائے۔شاہ محمود قریشی نے توقع ظاہر کی کہ عالمی برادری ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے، افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی غلطی نہیں دہرائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں