افغانستان کی حکومت کو مزید 5 فوجی واپس کردیے گئے، آئی ایس پی آر

افغان فوج کے 5 اہلکاروں کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد خیبرپختونخوا (کے پی) کے ضلع باجوڈ کے علاقے نواپاس میں حکام کے حوالے سے کردیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سےجاری بیان کے مطابق ‘5افغان فوجیوں کو باجوڑ کے علاقے نواپاس میں افغانستان کی حکومت کے عہدیداروں کے حوالے کردیا گیا’۔ بیان میں کہا گیا کہ ‘پاک فوج کی جانب سے 26 جولائی کو ان افغان فوجیوں کو ان کی درخواست پر چترال میں پاک-افغان سرحد کے سیکٹر آروندو میں محفوظ راستہ دیا گیا تھا’۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ‘افغان فوجی ضروری کارروائی کے بعد پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور اب یہ فوجی ان کی درخواست پر افغان حکام کو واپس کر دیے گئے ہیں’۔ گزشتہ روز بھی پانچ افسران سمیت 46 افغان فوجیوں کو باجوڑ میں نوا پاس کے مقام پر ‘خوش اسلوبی’ کے ساتھ افغان حکام کے حوالے کردیا گیا تھا جو 25 جولائی کو آروندو سیکٹر میں پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’ضروری کلیئرنس کے بعد افغان فوجی اپنے اسلحے، گولہ بارود اور مواصلاتی آلات کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے تھے‘۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ ’فوجیوں کو ان کے اسلحے اور آلات کے ساتھ ان ہی کی درخواست پر خوش اسلوبی سے افغان حکام کے حوالے کردیا گیا‘۔ یاد رہے کہ 26 جولائی کو آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ پاک فوج کی جانب سے افغان نیشنل آرمی (اے این اے) اور بارڈر پولیس کے 46 فوجیوں کو ’پناہ اور محفوظ راستہ‘ دے دیا گیا ہے۔ بیان میں بتایا گیا تھا کہ ارندو، چترال کے پار اے این اے کے ایک مقامی کمانڈر نے 46 فوجیوں کے لیے مدد کی درخواست کی تھی جن میں 5 افسران بھی شامل تھے کیونکہ ’وہ افغانستان کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال کی وجہ سے پاک افغان سرحد کے ساتھ (اپنی) چیک پوسٹ کو سنبھال نہیں سکتے تھے‘۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’افغان فوجی جوانوں کو فوجی اصولوں کے مطابق کھانا، رہائش اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی ہے‘۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ’یکم جولائی کو پناہ مانگنے والے 35 افغان فوجیوں کو بھی پاکستان میں محفوظ راستہ دے دیا گیا تھا اور مناسب طریقہ کار کے بعد افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا تھا‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں