افغانستان میں تیزی سے ابھرتے انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو ھنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد۔: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں سلامتی، استحکام اور اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں تیزی سے ابھرتے انسانی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری کو ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ ننایا مہوٹا نے بدھ کو اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ بذریعہ ویڈیو لنک رابطہ کیا۔دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ،علاقائی بالخصوص افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔وزیر خارجہ نے افغانستان میں سلامتی، استحکام اور اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ افغانستان میں تیزی سے ابھرتے انسانی بحران سے نمٹنے اور افغانستان کی انسانی و معاشی معاونت کیلئے عالمی برادری کو ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ افغانوں کو تنہائی کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔وزیر خارجہ نے نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ کو کابل سے انخلاء کے عمل میں پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ معاونت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 37 ممالک کے 21 ہزار باشندوں بشمول سفارتی عملے اور میڈیا نمائندگان کو کابل سے محفوظ انخلاء میں بھرپور مدد فراہم کی۔نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ نے نیوزی لینڈ سمیت مختلف ممالک کے شہریوں کو کابل سے محفوظ انخلاء میں بھرپور مدد فراہم کرنے پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

وزیر خارجہ نے نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ خارجہ کو بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں،بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہم نے حال ہی میں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے سنگین جنگی جرائم کے ٹھوس شواہد پر مبنی “ڈوزئر” عالمی برادری کے سامنے پیش کیا ہے۔

وزیر خارجہ نے فیٹف کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے موثر اقدامات سے نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ کو آگاہ کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ نیوزی لینڈ تکنیکی بنیادوں پر پاکستان کی حمایت جاری رکھے گا ۔

وزیر خارجہ نے نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ کے ساتھ کرکٹ ٹیم کی واپسی کے یکطرفہ فیصلے کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اس یکطرفہ فیصلے سے دونوں ممالک میں کرکٹ شائقین کی دل آزاری ہوئی۔دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دو طرفہ تعلقات کی موجودہ نوعیت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے مزیدمستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں