اسلام آباد ہائیکورٹ: سماعت کے دوران جاسوسی کا نیٹ ورک سامنے آنے کا انکشاف

غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام کرنے والا جاسوسی کا نیٹ ورک سامنے آگیا جس سے تعلق کے شبے میں اب تک 9 ملزمان کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے گرفتار کرلیا جن میں سے دو نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔
واقعہ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے ایک کیس کی سماعت کی اور بعد ازاں اسے 10 اگست تک ملتوی کردیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق ملزمان وزارت دفاعی پیداوار میں جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ اسی طرح کے کیس میں ہائی کورٹ نے جون میں وزارت خارجہ میں چینی ڈیسک پر کام کرنے والے سینئر عہدیدار کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی تھی، یہ عہدیدار روسی انٹیلی جنس کے لیے جاسوسی میں ملوث تھا۔ وزارت منصوبہ بندی و ترقیات کے گریڈ 18 کے افسر سید قلب عباس ڈیپوٹیشن پر وزارت خارجہ میں تعینات تھے۔ عدالت نے ان کی درخواست ضمانت اس لیے مسترد کی کیونکہ ان پر حساس معلومات لیک کرنے کا الزام تھا اور ان پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے سیکشن 3 اور 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس کیس کے ملزمان پر آفیشل سیکریٹس ایکٹ کی ان دفعات کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 34، 109 اور 409 کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزمان وزارت دفاعی پیداوار کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ عہدیدار یا دفاعی خریداری سے متعلق معاملات دیکھنے والے نجی کانٹریکٹرز ہیں جو خفیہ معلومات چوری کرکے غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایجنٹ کو فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ جن ملزمان کو اب تک گرفتار کیا گیا ان میں صفدر رحمٰن، تفضیل الرحمٰن، محمد وقار، محمد اشفاق، محمد طاہر، مجتبیٰ حسین، محمد اشرف، لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ عرفان حمید کیانی اور احمد کیانی شامل ہیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں سے معلومات ملنے کے بعد ایف آئی اے نے دفاعی خریداری کے ڈائریکٹوریٹ جنرل، وزارت دفاعی پیداوار کے سابق ملازم کو گرفتار کیا جو سفارتکار /غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنٹ سے خفیہ معلومات/دستاویزات دینے کے لیے ملاقات کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس وقت یہ انکشاف بھی ہوا کہ ملزم غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کو معلومات کی فروخت کا کاروبار کرتا تھا۔ ایف آئی اے نے ملزم سے نقدی اور موبائل فونز بھی برآمد کیے تھے۔ ابتدائی طور پر تین افراد صفدر، تفضیل اور اشفاق کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا لیکن ان کے انکشافات کے بعد دیگر ملزمان بھی گرفتار ہوئے جن میں ملٹری کانٹریکٹرز لیفٹیننٹ کرنل عرفان کانی اور احمد کیانی بھی شامل ہیں، جو کور کارپوریشن پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک ہیں۔ کور گروپ، جو توانائی کے شعبے میں ملٹری اور دفاعی منصوبوں میں ڈیل کرتا ہے، کا دعویٰ ہے کہ اس کا ایشیا، یورپ اور امریکا میں برانڈز، اجناس، ٹیکنالوجی اور انفرا اسٹرکچر شعبوں کے متعدد مینوفیکچررز سے اشتراک ہے۔ الزامات کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ عرفان کیانی اور ان کے بیٹے احمد ایک اور ملزم صفدر سے خفیہ دستاویزات حاصل کر رہے تھے تاکہ یہ غیر ملکی ایجنٹ تک پہنچائی جاسکیں۔

ایف آئی اے نے ان کی تحویل سے دفاعی خریداری اور دفاعی پیداوار سے متعلق خفیہ دستاویزات حاصل کر لیں۔ عدالتی دستاویزات میں کہا گیا کہ ملزمان سے چند الیکٹرانک ڈیوائسز بھی برآمد ہوئیں جنہیں فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا۔ لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ عرفان کیانی اور احمد، جو اڈیالہ جیل میں ہیں، عدالت عالیہ میں ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود نے درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کچھ انتہائی حساس معلومات عدالت کے ریکارڈ میں لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے عدالت سے ان کیمرا سماعت کی درخواست کی تاکہ حکومت کیس میں بآسانی اپنا مؤقف پیش کر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں