اسلام آباد سے ملنے والی لڑکی کی لاش کی شناخت کے لیے لاپتہ لڑکیوں کے والدین سے رابطے

وفاقی پولیس نے شہر کے پوش علاقے ایف الیون سے ملنے والی بوری بند نامعلوم خاتون کی میت کی شناخت کے لیے اُن خاندانوں سے رابطہ کیا ہے جن کی لڑکیاں گذشتہ دو ماہ کے دوران لاپتہ یا اغوا ہوئی ہیں۔ اس مقدمے کی تفتیش کی نگرانی کرنے والے افسر اور تھانہ گولڑہ پولیس سٹیشن کے انچارج عاصم غفار کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اسلام آباد کے علاوہ راولپنڈی ڈویژن کے چار شہروں میں گذشتہ دو ماہ کے دوران لڑکیوں کے اغوا اور گمشدگیوں کے بارے میں درج مقدمات کی تفصیلات طلب کر کے اُن کے ورثا سے رابطے کیے جا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں اب تک ایسے دو درجن سے زائد افراد سے رابطے ہوئے ہیں۔ رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران اسلام آباد میں لڑکیوں کے اغوا کے دو درجن سے زائد مقدمات درج ہوئے ہیں اور گمشدہ یا اغوا ہونے والی ان لڑکیوں کی بازیابی میں اسلام آباد پولیس کی کارکردگی انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ تھانہ گولڑہ پولیس کو چند روز قبل نامعلوم لڑکی کی بوری بند لاش ملی تھی اور پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ لڑکی کو تشدد کر کے ہلاک کیا گیا تھا۔ پولیس کو اس لاش کی نشاندہی ایک چرواہے نے کی تھی جو کہ قریبی علاقے میں اپنی بھینیس چرا رہا تھا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی عمر25 سال کے قریب ہے اور اس کے چہرے پر تیز دھار آلے کے زخموں کے نشانات بھی ہیں۔ تفتیشی افسر کے مطابق بظاہر نامعلوم لڑکی کی موت تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے تاہم یہ معلوم کرنے کے لیے کہ کہیں لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بھی تو نہیں بنایا گیا اس کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے اور فی الحال رپورٹ کا انتظار ہے۔ ایس ایچ او تھانہ گولڑہ کے مطابق لاش کے پرانے ہونے کی وجہ سے اس سے تعفن اٹھ رہا تھا۔ انھوں نے کہا کہ لاش پرانی ہونے کی وجہ سے اس کی انگلیوں کے پرنٹ بھی تقریباً ختم ہو چکے تھے تاہم کوششوں کے بعد انگلیوں کے نشانات کے نمونے لے کر انھیں نادرا شناخت کے لیے بھجوا دیا گیا ہے، جس کی رپورٹ اگلے ایک دو روز میں مل جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے اس حوالے سے اشتہار ’شور و غوغہ‘ بھی جاری کیا ہے تاکہ شناخت میں مدد مل سکے جبکہ میت کی تصویر مختلف تھانوں میں بھی بھیج دی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے کے بعد میت کو امانتاً دفن کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں