اردو افسانے کی سلطنت کے معمار غلام عباس کا لاہور سے عشق

ایک شہر کسی کو ادیب کیسے بناتا ہے؟ اس کے ادبی ذوق کی بنیادیں کیسے استوار کرتا ہے؟ اس کی خفتہ صلاحیتیں بیدار کر کے انہیں کیسے صیقل کرتا ہے؟ اسے ادبی ریاضت کے لیے سازگار ماحول کیسے فراہم کرتا ہے؟ ان سب سوالوں کا جواب، غلام عباس کے لاہور میں گزرے ماہ و سال کے احوال سے مل سکتا ہے جس کے بیان سے پہلے اردو افسانے میں ان کے مرتبے پر مختصر سی بات۔ فنِ افسانہ میں غلام عباس کی بڑائی کے وہ قلم کار بھی قائل ہیں جن کا فکشن میں خود بڑا اونچا مقام ہے۔ اس ضمن میں صرف دو مثالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ آصف فرخی نے نیر مسعود سے انٹرویو میں ان کے پسندیدہ افسانہ نگاروں کا پوچھا تو انہوں نے بتایا:
’سب سے زیادہ تو مجھ کو غلام عباس صاحب پسند ہیں…. تأثر جن سے میں نے قبول کیا ہے تو وہ میرا خیال ہے غلام عباس کا ہونا چاہیے، اس لیے کہ میں نے اس طرح پڑھا ہے جیسے کسی استاد کی چیز پڑھی جائے اور اس طرح کہ گویاا س سے سیکھنا چاہیے، غلام عباس سے کہ کہانی کس طرح بیان کی جائے۔‘ دوسری مثال قرة العین حیدر کی ہے جن کے بقول ’غلام عباس اردو افسانے کے ایمپائر بلڈرز میں سے ایک ہیں….ایک معمارِ سلطنت۔‘ نیر مسعود اور قرة العین حیدر کا حوالہ اس لیے بھی اہم ہے کہ غلام عباس، ان کے ناسٹلجیا کا حصہ تھے۔ دونوں کی بچپن میں قاری کی حیثیت سےغلام عباس سے اس وقت واقفیت ہوئی جب وہ لاہور میں دارالاشاعت پنجاب میں کام کرتے تھے۔
دس دس کے دو نوٹ…. پہلا ادبی انعام
ایامِ طفلی میں باپ کا سایہ غلام عباس کے سر سے اٹھ گیا۔ چار برس کی عمر میں والدہ، نانی اور نانی کی بہن کے ساتھ وہ امرتسر سے لاہور آ گئے۔ والدہ کو پڑھنے کا شوق تھا جو بیٹے کو بھی منتقل ہوا۔ بچپن میں کلاسیکی ادب پڑھنے کی چاٹ لگ گئی۔
پندرہ سولہ برس کی عمر تک آتے آتے بہت سا ادب پڑھ لیا۔ مطالعے کے ساتھ ساتھ لکھنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ۔ سکول کی تعلیم نویں جماعت میں چھوڑنی پڑی۔ ریلوے کے مال گودام میں 30 روپے تنخواہ پر ’مارکر‘ کی نوکری مل گئی جس میں بوریوں پر نمبر درج کرنے ہوتے۔ اس کام سے جلد جی اُوب گیا۔ دل پڑھنے لکھنے کی طرف مائل تھا۔ مضامین اور تراجم رسالوں میں جگہ پانے لگے، جن میں حکیم احمد شجاع کا ’ہزار داستان‘ نمایاں تھا۔ اس میں 1925 میں ٹالسٹائی کی کہانی ’دی لانگ ایگزائل‘ کے ترجمے سے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ اس زمانے میں حکیم یوسف حسن ’نیرنگ خیال‘ کے ساتھ ساتھ ایک ہفت روزہ اخبار ’تازیانہ‘ بھی شائع کرتے تھے، جس کے لیے غلام عباس نے ہر ہفتے ایک کہانی ترجمہ کرنے کا معاہدہ کیا۔ فی کہانی پانچ روپے معاوضہ طے پایا۔ غلام عباس نے مال گودام کی نوکری سے پِنڈ چھڑانے کے لیے اہل خانہ سے جھوٹ موٹ کہا کہ انہیں اخبار میں نوکری مل گئی ہے۔ اب وہ روزانہ گھر سے دوپہر کا کھانہ بندھوا کر شاہی مسجد کا رخ کرتے اور اس کے دروں پر بیٹھ کر کہانی کا ترجمہ کرنے میں جٹ جاتے۔ ان کہانیوں سے جو یافت ہوتی وہ والدہ اور نانیوں کے ہاتھ پر رکھتے۔ ان کا انگریزی افسانے کا ’موت کا درخت‘ کے عنوان سے ترجمہ ،حکیم یوسف حسن کو اس قدر بھایا کہ انھوں نے اسے ’تازیانہ‘ کے بجائے مؤقر ادبی جریدے ’نیرنگ خیال‘ کے سالنامے (1929) میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ غلام عباس کے بقول ’وہ اس سے اتنے خوش تھے کہ وہ اس روز بہ نفس نفیس میرے گھر آئے اور میری والدہ کو پردے کے پیچھے بلا کر دس دس کے دو نوٹ دیے کہ یہ آپ کے بیٹے کا انعام ہے۔‘ غلام عباس کے ایک دوست بدر الدین بدر سینٹرل جیل لاہور کے چھاپہ خانے میں پروف ریڈر تھے۔ غلام عباس کے لفظوں میں ’بڑے ہی خوش مذاق، من چلے، یاروں کے یار‘ ۔ شاعری بھی کرتے تھے۔ انگریزی ادب میں انہیں گہری دلچسپی تھی۔انہی نے غلام عباس کو آسکر وائلڈ کے ڈراموں سے متعارف کرایا۔ بدر الدین بدر نے سرکاری ملازمت ترک کر کے اندرون لاہور پانی والے تالاب کے قریب، پانوں کی دکان کھولی تو وہاں سرِشام ادب اور آرٹ سے دلچسپی رکھنے والوں کا پھڑ جمنے لگا۔ اس علم دوست منڈلی میں ایم ڈی تاثیر،عبدالرحمٰن چغتائی،حکیم یوسف حسن، ڈاکٹر نذیراحمد، مولوی مسلم اور غلام عباس شامل تھے۔غلام عباس کے بقول ’ہم لوگ پان پر پان کھاتے رہتے اور ادب پر باتیں کرتے رہتے…. چغتائی صاحب سے میری پہلی ملاقات اسی جگہ ہوئی تھی۔ پان تو چغتائی صاحب کم ہی کھاتے تھے، البتہ تاثیر صاحب سے آرٹ اور ادب پر ان کی گپ شپ بڑی جاذبیت رکھتی تھی۔ اس دکان پر کوئی کرسی یا بینچ تو تھی نہیں، ہم لوگ بس کھڑے کھڑے ہی باتیں کرتے رہتے۔‘ معروف ادیب میرزا ادیب نے ’مٹی کا دیا‘ میں لکھا: ’قیامِ پاکستان سے کئی برس پہلے کا واقعہ ہے۔ اس زمانے میں اگر کوئی شخص پانی والے تالاب سے ہٹ کر ہیرامنڈی کی طرف رخ کر کے تھوڑا سا فاصلہ طے کرتا تو اسے دو طرفہ کئی ایسی دکانیں نظر آ جاتیں جن میں پرانی کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔‘ پرانی کتابوں کی ان دکانوں میں میرزا ادیب کو اکثر ایک لڑکا نظر آتا جسے کبھی کبھار وہ کتابیں اٹھائے اس رستے پر پیدل جاتے بھی دیکھا کرتے، جہاں گیٹی تھیٹر ہوا کرتا تھا۔ اس رستے پر ایک دن غلام عباس سے تانگہ ٹکرایا تو کتابیں ہاتھ سے گر کر سڑک پرجا پڑیں۔ انہوں نے کوچوان سے الجھنے کے بجائے کتابیں سمیٹنے میں مستعدی دکھائی۔ کتابیں دسترس میں آنے پر انہیں تھڑے پر رکھ کر دایاں بازو سہلانے لگے۔ میرزا ادیب جو یہ سارا تماشا دیکھ رہے تھے، ان کی مدد کو آگے بڑھے اور بوجھ بانٹنے کے لیے کچھ کتابیں ان سے پکڑ لیں۔ دونوں میں گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو میرزا ادیب نے استفسار کیا کہ کیا وہ یہاں روزانہ آتے ہیں؟ تو جواب ملا: ’جی۔ جی۔ روزانہ تو نہیں، تیسرے چوتھے روز آ جاتا ہوں۔ میں کہتا ہوں ان دکانوں سے ایسی ایسی کتابیں مل جاتی ہیں جو بڑی بڑی دکانوں میں بھی نہیں ہوتیں۔‘
غلام عباس نے بتایا کہ چند دن پہلے استاد ہمدم کی دکان سے طلسم ہوش ربا کی سات جلدیں انہوں نے خریدی ہیں۔ کتابوں کے بارے میں باتیں کرتے کرتے دونوں ٹیکسالی گیٹ میں عزیز تھیٹر سے تھوڑا آگے پہنچے تو غلام عباس نے میرزا ادیب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے کتابیں لے لیں تو انہوں نے کہا کہ وہ گھر تک پہنچا آتے ہیں تو جواب ملا بس یہیں میرا گھر ہے۔ ممتاز ماہر نفسیات اور کوچہ چابکسواراں کے مکین ڈاکٹر محمد اجمل نے لکھا ہے کہ غلام عباس بھاٹی دروازے میں رہتے تھے۔ غلام عباس کے ادبی کریئر کے ابتدائی زمانے میں جن لوگوں نے ادبی دنیا میں ان کے قدم جمانے میں اعانت کی، ان میں ممتاز مصور عبدالرحمٰن چغتائی سرفہرست ہیں۔ بعض دفعہ وہ ان کی تحریر پڑھ کر کہتے ’بھئی کمال کر دیا ۔دیکھو عباس نے کیا لکھ ڈالا۔‘ غلام عباس کے بقول ’ان کی اس حوصلہ افزائی نے میری ابتدائی ادبی زندگی کو بڑا استحکام بخشا۔ میں نے متعدد چیزیں محض ان کو خوش کرنے اور ان سے داد لینے کے لیے لکھیں۔‘ بچوں کے اخبار ’پھول‘ سے غلام عباس کی وابستگی ان کے ادبی کریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ 1928سے 1937 تک امتیاز علی تاج کے نائب کے طور پر ’پھول‘ میں کام کیا۔ دارالاشاعت پنجاب کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ’پھول‘ کی شہرت برصغیر بھر میں تھی۔ اس نے بچوں کو پڑھنے پر ہی مائل نہ کیا بلکہ انہیں لکھنے پر بھی اکسایا۔ بہت سے بڑے ادیب بچپن میں اس کے قاری اور لکھاری رہے جن میں اہم ترین نام قرة العین حیدر کا ہے۔ غلام عباس نے پرچے کو مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ طبع زاد کہانیاں لکھیں اور ترجمے بھی کیے۔ دارالاشاعت پنجاب کے لیے ان کے جس کام کی سب سے زیادہ شہرت ہوئی وہ واشنگٹن ارونگ کی کتاب Tales of the Alhambra کا ’الحمرا کے افسانے‘ کے عنوان سے ترجمہ تھا۔ اس کے قارئین میں وہ بھی تھے جنہوں نے اردو ادب میں بڑا نام کمایا۔ محمد حسن عسکری اور ڈاکٹر آفتاب احمد کے ساتھ آگے چل کر غلام عباس کی دوستی ہو گئی۔ محمد حسن عسکری نے ’الحمرا کے افسانے‘ کے بارے میں لکھا کہ’اس کتاب کی عبارت میں ایسی مٹھاس تھی کہ جادو سا اثر کرتی تھی۔ ہمارے خاندان میں یہ مقبول ترین کتاب تھی۔ میرا کوئی بھائی ایسا نہیں، جس نے اسے دس مرتبہ نہ پڑھا ہو….خود میرا یہ حال رہا کہ انٹرمیڈیٹ میں پہنچ گیا مگر اسے بچوں کے سے اشتیاق کے ساتھ پڑھتا رہا۔‘ ڈاکٹر آفتاب احمد اپنی کتاب ’بیاد صحبت نازک خیالاں ‘میں لکھتے ہیں: ’واقعہ یہ ہے کہ میرے بچپن کے زمانے میں ہر اردو پڑھنے والے بچے کی سب سے پہلے جس لکھنے والے سے غائبانہ ملاقات ہوتی تھی، وہ غلام عباس تھے۔ اس لیے کہ وہ ’پھول‘ اخبار کے ایڈیٹر تھے اور ’پھول‘ ہر گھر میں ہفتہ وار سوغات کی طرح آتا تھا، میری بھی غلام عباس سے غائبانہ ملاقات اسی زمانے میں شروع ہوئی…. ’پھول‘ کا دور گزر جانے کے بعد میری بہنوں نے اور میں نے ’الحمرا کے افسانے‘ کس ذوق وشوق سے پڑھے تھے، گھر میں کیا چھینا جھپٹی کا عالم رہتا تھا۔‘
محمد خالد اختر، نیر مسعود اور شفیق الرحمٰن کو بھی ’الحمرا کے افسانے‘ بہت پسند تھی۔ 1930 کی دہائی میں عبدالرحمٰن چغتائی نے کوچہ چابکسواراں سے ادب اور آرٹ کا نہایت عمدہ پرچہ ’کارواں‘ نکالا۔ اس کے دو شمارے شائع ہوئے جو اپنے مشمولات اور حسنِ طباعت کے اعتبار سے اپنی مثال آپ تھے۔ پہلا پرچہ (1933 ) ایم ڈی تاثیر نے اور دوسرا شمارہ (1934 ) میں مجید ملک نے مرتب کیا۔ پہلے شمارے میں غلام عباس کا پہلا طبع زاد افسانہ ’مجسمہ‘ شائع ہوا۔ دوسرے شمارے میں ’محبت کا گیت‘ چھپا۔ غلام عباس کے اس ناولٹ کے زیادہ تر حصے میں فلیش بیک تکنیک کا استعمال ہوا ہے۔ لاہور میں تکیوں کے عروج کا زمانہ انہوں نے اچھی طرح دیکھ رکھا تھا، اس لیے موضوع سے انصاف کرنے میں کامیاب ٹھہرے۔ ان کے بقول ’گوندنی والے تکیے کا خیال، مدت ہوئی مجھے لاہور میں سوجھا تھا جہاں ایسے تکیے بکثرت ہیں یا ہوا کرتے تھے۔ یہ تکیے غریب غربا اور ناخواندہ لوگوں کے لیے وہی کام دیتے تھے جو امرا اور پڑھے لکھے طبقوں کے لیے شہروں کے کلب….اپنے لاہور میں قیام کے دوران مجھے کبھی کبھار مختلف تکیوں میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا تھا۔ کبھی پنجابی کا کوئی مشاعرہ اس کا محرک ہوتا تھا۔ کبھی دو نامی گرامی گویوں کا استادی گانوں کا مقابلہ۔ کبھی حال و قال کی کوئی محفل۔ اور میں ایک محویت کے عالم میں اس کا مشاہدہ کرتا رہتا تھا۔‘
ناولٹ سے زمانے کے کروٹ لینے کی بابت بھی معلوم ہوتا ہے:
’یہ لاہور کا وہ زمانہ تھا جب پرانی تہذیب پر نئی روشنی کے اثرات پڑنے شروع ہو گئے تھے اور لوگوں کے رہن سہن، لباس، وضع قطع اور عادات و اطوار میں رفتہ رفتہ تبدیلی ہوتی جا رہی تھی۔‘
یہ تبدیلیاں پنجابی شاعری میں معرضِ اظہار میں آ رہی تھیں۔ پمفلٹ کی صورت میں شائع ہونے والی ان نظموں کو گا گا کر فروخت کیا جاتا۔ ناولٹ سے دو نمونے ملاحظہ ہوں۔:
میں اے بی سی پڑھ گئی آں، انارکلی وچ وڑ گئی آں۔
باؤجی بجلی آئی اے جدی چند وانگن رشنائی اے
غلام عباس کا طنزیہ ناولٹ ’جزیرہ سخنوراں‘ جس کا مرکزی خیال آندرے موروا کی کتاب سے لیا گیا ہے، 1937 میں چراخ حسن حسرت کے ہفتہ وار اخبار شیرازہ لاہور میں قسط وار شائع ہوا جس میں شاعروں کے مزاج اور ان کے اسلوب بیان پر کاٹ دار طنز ہے۔ یہ غلام عباس کا مشہور افسانہ ہے۔ اس کا لوکیل لاہور کی مال روڈ ہے۔ ’جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیرنگ کراس کا رخ کر کے خراماں خراماں پٹری پر چلنے لگا۔‘ ’جیسے جیسے وہ مال کے زیادہ بارونق حصے کی طرف پہنچتا جاتا تھا۔ اس کی چونچالی بڑھتی ہی جاتی تھی۔‘ ’ملکہ کے بت کے قریب پہنچ کر اس کی حرکات وسکنات میں کس قدر متانت پیدا ہو گئی۔‘ مال روڈ پر موٹروں، تانگوں اور بائیسکلوں کا تانتا بندھا ہوا تو تھا ہی، پٹری پر چلنے والوں کی بھی کثرت تھی، علاوہ ازیں سڑک کی دو رویہ دکانوں میں خرید و فروخت کا بازار بھی گرم تھا۔ جن کم نصیبوں کو نہ تفریحِ طبع کی استطاعت تھی نہ خرید و فروخت کی، وہ دور ہی س کھڑے کھڑے ان تفریح گاہوں اور دکانوں کی رنگا رنگ روشنیوں سے جی بہلا رہے تھے۔‘ ’ایک ریستوران میں آرکسٹرا بج رہا تھا۔ اندر سے کہیں زیادہ باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔‘ ’اس وقت وہ تینوں بڑے ڈاک خانے کے چوراہے کے پاس پہنچ گئے تھے۔ لڑکا اور لڑکی پل بھر کو رکے اور پھر سڑک پار کرکے میکلوڈ روڈ پر چل پڑے۔ نوجوان مال روڈ پر ہی ٹھہرا رہا۔‘ غلام عباس نے لاہور میں ادب کو سنجیدگی اور توجہ سے پڑھا۔ فکشن کا ترجمہ کیا، کہانیاں لکھیں، برصغیر کے نامور اشاعتی ادارے میں نو برس کام کیا جہاں انہیں مولوی ممتاز علی اور امتیاز علی تاج سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
’میری ادبی تربیت میں ان دو حضرات کا بھی خاصا دخل ہے۔‘ 1920کی دہائی کے وسط میں لاہور میں نیاز مندان لاہور کے نام سے ایک ادبی حلقہ قائم ہوا جس میں ایم ڈی تاثیر،امتیاز علی تاج، عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت، عبدالرحمٰن چغتائی، پطرس، مجید ملک اور دیگر شامل تھے۔ اس ادارے نے لاہور کی ادبی فضا کو منور کر دیا۔ غلام عباس اس حلقے کے اراکین سے جونیئر تھے لیکن اپنی ادبی لیاقت کی بنا پر ان کی نہ صرف نیاز مندان لاہور کی مجلسوں میں رسائی ممکن ہوئی بلکہ اس کے وابستگان سے محبت اور احترام کا وہ رشتہ استوار ہوا جو عمر بھر کے تعلق میں تبدیل ہو گیا۔ غلام عباس کا اس حلقے سے باہر بھی کئی لکھاریوں سے ربط ضبط رہا جن میں ایک اہم نام ن م راشد کا ہے جو 1928 سے 1932 تک گورنمنٹ کالج لاہور کے طالب علم رہے۔ ان کے بقول ’کالج کے بعد کے دوستوں میں جن کے ساتھ نسبتاً گہرا تعلق رہا ،میرا جی جیسے ’موئے ژولیدہ و ناشستہ گلیم‘ بھی تھے اور چراغ حسن حسرت جیسے ’رند لم یزل‘ بھی، مہدی علی خاں جیسے ستم ظریف بھی اور غلام عباس جیسے شریف بھی۔‘ ادیبوں شاعروں اور صحافیوں سے ہٹ کر فن موسیقی کی ممتاز شخصیت استاد عبدالوحید خان سے تعلق پر انہیں بڑا ناز تھا۔ ان کی باقاعدہ شاگردی میں بھی رہے۔ یورپی اور ہندوستانی موسیقی کے اداروں میں بھی طالب علم کی حیثیت سے جاتے رہے لیکن پھر دوکشتیوں کے بجائے صرف ادب کی کشتی پر ہی سوار ہو گئے۔ غلام عباس کی ادبی تگ و تاز اپنی جگہ لیکن جوانی میں وہ لاہور میں ہیرا بائی کی زلفوں کے اسیر بھی ہوئے، اس لیے اس محبت کی حکایت کا بھی کچھ بیاں ہو جائے جس کے راوی ڈاکٹر آفتاب احمد ہیں، جنہیں فسانہ محبت خود افسانہ نگار نے سنایا۔ ڈاکٹر آفتاب احمد کے بقول ’وہ (ہیرا بائی) ان کی زندگی میں پہلی عورت تھی جو ان سے عمر میں کچھ بڑی بھی تھی لہٰذا اس محبت میں کچھ شفقت بھی شامل تھی۔ عباس صاحب کو اس دو گونہ نشے نے دیوانہ کر دیا تھا۔‘ عاشقی کی یہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی تھی لیکن اس کی مخالفت بھی دو طرفہ تھی۔ ہیرا بائی کے سرپرستوں کو یہ رشتہ گوارا تھا نہ ہی غلام عباس کی والدہ اس کے حق میں تھیں، اس لیے عشق کی یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ غلام عباس نے ڈاکٹر آفتاب کو فسانہ دلفریب سنایا ہی نہیں بلکہ تقسیم کے بعد انہیں ہیرا بائی کے درِدولت پر لے بھی گئے تھے۔ ڈاکٹر آفتاب احمد لکھتے ہیں: ’ایک دن مجھ سے کہنے لگے کہ چلیے آپ کو اس محلے میں کچھ اپنے پرانے دوستوں سے ملا لائیں۔ شام سے ذرا پہلے کا وقت تھا، ہم جب وہاں پہنچے تو عقب میں واقع بادشاہی مسجد کے میناروں سے دھوپ ڈھل چکی تھی اور محلے کی گلیوں میں شام ہو چکی تھی۔’ ‘ایک ذرا کشادہ گلی کی نکڑ پر ایک بڑے سے مکان کے سامنے عباس صاحب نے اپنا موٹر سائیکل روک لیا اوربڑی احتیاط سے پارک کیا۔ آس پاس کے دکان داروں سے علیک سلیک کی۔ مکان کے دروازے پر کچھ ملازم پیشہ لوگوں نے عباس صاحب کو پہچان لیا۔ اندر اطلاع دی گئی تو ہمیں فوراً ہی بلا لیا گیا۔ ہم اوپر کی منزل کے ایک دالان میں پہنچے تو عجیب منظر دیکھنے میں آیا۔ یکے بعد دیگرے کئی عورتیں نمودار ہوئیں، بڑی بوڑھیوں نے عباس صاحب کی بلائیں لیں، دو ایک ہم عمروں نے گلے لگایا اور نئی نویلی لڑکیاں آداب سلام بجا لائیں۔۔۔’
ہیرا بائی نے طنبورہ ہاتھ میں لیا اور غالب کی غزل شروع کی:
دل سے تری نگاہ جگر تک اُتر گئی
دونوں کو اک ادا میں رضا مند کر گئی
’اور اس طرح ڈوب کر گائی کہ سماں باندھ دیا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ خود بھی غالب کے الفاظ اور اپنی آواز کے جذب و اثر میں کھوئی گئی ہیں، غزل ختم ہوئی تو میں نے جیسے ایک وجد کی سی کیفیت میں یہ شعر دہرا دیا:
دیکھو تو دل فریبیٔ اندازِ نقشِ پا
موجِ خرامِ یار بھی کیا گُل کتر گئی
ہیرا بائی فوراً بولیں’پروفیسر صاحب! اب موجِ خرامِ یار کہاں، اب تو یار پھٹ پھٹی پر آتا ہے‘ اور اس کے ساتھ ہی عباس کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے ایک قہقہہ لگایا۔ کچھ دیر اور ٹھہرنے کے بعد ہم نے اجازت چاہی، نیچے آئے تو ڈیوڑھی کے ساتھ والا دالان جگ مگ جگ مگ کر رہا تھا، سفید چاندنی پر گاؤ تکیے لگا دیے گئے تھے۔ سازندے سازوں سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے اور لڑکیاں سجی بنی مسند پر بیٹھی تھیں۔‘ قرة العین حیدر کے والدین کا دارالاشاعت پنجاب سے گہرا تعلق تھا۔ ’پھول‘ اور اس ادارے کی کتابوں کا مطالعہ ان کی بچپن کی حسین یادوں کا حصہ ہے۔ ان کے بقول ’ہر انساں کی اپنے اولیں زمانوں کی ایک مائتھولوجی ہوتی ہے۔ میری بھی ہے۔ اور اس میں ’پھول‘ اخبار کا بہت عمل دخل رہا ہے۔ پھول ایک گھریلو سے معاملہ تھا۔‘ قرة العین حیدر کے لیے اس زمانے کے غلام عباس الحمرا والے غلام عباس تھے۔ غلام عباس پر اپنے مضمون میں قرة العین نے ’نیرنگ خیال‘ کے اس پرچے کے مندرجات بھی نقل کیے ہیں جس میں ’موت کا درخت‘ شائع ہوا تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ تقسیم کے بعد قرة العین حیدر کی غلام عباس سے ملاقات دارالاشاعت پنجاب نمبر سات ریلوے روڈ لاہور کے پھاٹک میں ہوئی، یہ سخت سردی کے دن تھے۔ غلام عباس نے قرة العین حیدر سے پوچھا: کوئی نئی چیز لکھی ہے؟جس پر انہیں بتایا گیا کہ ان دنوں ’میرے بھی صنم خانے‘ لکھا جا رہا ہے۔ غلام عباس نے کہا کہ وہ ناول مکمل کر لیں تو وہ کسی ناشر سے اس کی اشاعت کے لیے بات کریں گے۔ قرة العین حیدرنے ناول مکمل کرنے کے بعد غلام عباس کو بھیج دیا جو ایک روز ان کے پاس ( کراچی میں) یہ بتانے کے لیے آئے کہ دفتر سے دو روز کی چھٹی لے کر انہوں نے’میرے بھی صنم خانے‘ پڑھا اور پھر اسے مکتبہ جدید لاہور کو بھیج دیا۔ قرة العین حیدر کے بقول ’میں بڑی مرعوب ہوئی کہ اس ہیچ پوچ ناول کو پڑھنے کے لیے غلام عباس صاحب جیسے مصروف آدمی نے دو روز کی چھٹی لی۔‘ یہ ناول مکتبہ جدید لاہور سے 1949 میں چھپا، اسی ادارے نے 1948 میں غلام عباس کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’آنندی‘ شائع کیا تھا۔ تقسیم کے بعد غلام عباس دلی سے لاہور آ گئے اور میسن روڈ پر ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر کے گھر کی اوپر کی منزل میں ٹھکانہ کیا۔ دلی سے دس سال بعد ان کی لاہور واپسی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر آفتاب کے بقول ’عباس صاحب لاہور میں بہت خوش تھے۔ یہاں کی گلیوں میں انہوں نے اپنے لڑکپن اور جوانی کے دن گزارے تھے، ان کی بہت سے یادیں اس شہر سے وابستہ تھیں اور وہ اکثر ان یادوں کو تازہ کرتے رہتے تھے۔‘ ان کی قسمت میں مگر اس شہر میں رہنا نہیں تھا، اس لیے چند ماہ یہاں رہنے کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے جہاں ریڈیو پاکستان میں ان کو ملازمت مل گئی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں