ادب کا نوبیل انعام عبدالرزاق کو دینے کا اعلان

سال دو ہزار اکيس کا ادب نوبیل انعام تنزانيہ کے ناول نگار تہتر سالہ عبدالرزاق گرنہ کو دینے کا اعلان کیا گيا ہے۔ نوبیل پرائز کميٹی کے مطابق عبدالرزاق کو نوبیل انعام کے ليے نو آبادیات کے تہذیبوں پر اثرات، پناہ گزینوں پر مختلف براعظموں میں پیش آنے والے مصائب کو آسان الفاظ میں بیان کرنے پر منتخب کیا گیا۔

اس سے پہلے فزکس کا نوبیل انعام جرمنی، جاپان اور اٹلی کے سائنس دانوں کو دینے کا اعلان کيا جا چکا ہے، جب کہ کیمسٹری کا نوبیل انعام امریکی اور جرمن سائنس دانوں کے نام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ادب کے نوبیل انعام کے لیے پیش گوئی کرنے والوں کی فہرستوں میں گرنہ کا نام کہیں موجود نہیں تھا۔

نوبیل کمیٹی کے مطابق گرنہ کے کام میں پناہ گزینوں کے مسائل کی تفہیم پائی جاتی ہے۔ 73 سالہ عبدالرزاق گرنہ انگریزی زبان میں لکھتے ہیں اور ان کا سب سے مشہور ناول ’پیراڈائز‘ ہے جسے 1994 میں بکر پرائز کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔ البتہ اسے یہ انعام مل نہیں سکا تھا۔

اس کے علاوہ ان کا ناول ’بائی دا سی‘ 2001 میں بکر پرائز کے لیے جب کہ ’ڈیزرشن‘ 2005 میں وائٹ بریڈ انعام کی لانگ لسٹ میں شامل ہوا۔ گرنہ کل 10 ناول لکھ چکے ہیں۔ نوبیل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گرنہ کو انعام ’نوآبادیاتی نظام کے اثرات کی بےلوچ اور ہمدردانہ تفہیم اور ثقافتوں اور براعظموں کے درمیان پناہ گزینوں کی تقدیر‘ پیش کرنے پر دیا گیا۔

نوبیل کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ گرنہ کے تمام کام میں پناہ گزینوں کے مسائل کا ادراک ملتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ادب کے نوبیل انعام کے لیے دیگر ماہرین کی فہرستوں میں گرنہ کا کہیں ذکر موجود نہیں تھا۔ فرانسیسی ادیبہ این ارنو اکثر فہرستوں میں پہلے نمبر پر تھیں، جب کہ این کارسن، موراکامی اور مارگریٹ ایٹ وڈ وغیرہ اس دوڑ میں شامل تھے۔

نوبیل کمیٹی پر حالیہ کئی برسوں سے دباؤ بڑھتا جا رہا تھا کہ وہ یورپ اور سفید فام ادیبوں سے باہر نکل کر دنیا کے دوسرے خطوں کے لوگوں کو بھی انعام دینے پر غور کریں۔ وہ نجیب محفوظ، نیڈین گورڈمر، وول سوینکا کے بعد تیسرے افریقی ہیں جنہوں نے ادب کا نوبیل انعام جیتا ہے۔

تاہم یہ بات قابلِ غور ہے کہ پانچ میں سے چار نوبیل انعام یافتگان انگریزی کے ادیب ہیں، جب کہ نجیب محفوظ عربی کے ادیب ہیں جو افریقی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی زبان سمجھی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نوبیل انعام کی 118 سالہ تاریخ میں کسی افریقی زبان کو ادب کا نوبیل انعام نہیں مل سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں