ادبی لطائف

وہ (عبدالمجید سالک) قلم اور زبان دونوں کے حاتم تھے، جس محفل میں بیٹھتے، پھبتیوں کی جھاڑ باندھتے اور لطیفوں کا انبار لگاتے۔ ایک محفل میں اختر علی خاں (اللہ انہیں بخشے) کے لاابالی پن کا ذکر ہو رہا تھا کہ وہ شہید گنج میں کوئی دستاویز اٹھاکر ماسٹر تارا سنگھ کو دے آئے تھے۔ سالک صاحب نے تبسم فرمایا اور کہا، چھوڑ یار، اختر علی خاں بھی تو تارا سنگھ ہی کا ترجمہ ہے۔ کلیم صاحب ملٹری اکاؤنٹس میں غالباً ڈپٹی اکاؤنٹینٹ جنرل یا اس سے بھی کسی بڑے عہدے پر فائز تھے۔ انھیں شعر و سخن سے ایک گونہ لگاؤ تھا، اکثر مشاعرے رچاتے۔ ایک مشاعرہ میں سالک صاحب بھی شریک تھے۔ کسی نے ان سے کلیم صاحب کے بیٹے کا تعارف کراتے ہوئے کہا۔ آپ کلیم صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ رگِ ظرافت پھڑک اٹھی فرمایا۔ تو یہ کہیے آپ ضربِ کلیم ہیں۔ غرض ان کا سینہ اس قسم کے لطائفُ الادب کا خزینہ تھا، جس محفل میں ہوتے چھا جاتے۔ برجستہ گوئی، حاضر جوابی، بذلہ سنجی، شگفتہ مزاجی، شعر فہمی، نکتہ آفرینی، یہ سب گویا ان کے خانہ زاد تھے۔ طبیعت میں آمد ہی رہتی، آورد کا ان کے ہاں گزر ہی نہیں تھا۔

(اردو کے ممتاز ادیب و شاعر عبدالمجید سالک کی بذلہ سنجی اور شگفتہ مزاجی کے حوالے سے یہ واقعات نام ور شاعر، ادیب اور صحافی شورش کاشمیری نے اپنے مضمون میں رقم کیے ہیں)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں