اخلاقِ مصطفیٰﷺ کی چند جھلکیاں اور روشن نقوش

ارشادِ ربانی ہے:ترجمہ: بے شک ،تمہیں رسول اللہﷺ کی پیروی بہتر ہے۔(سورۂ احزاب)رسول اللہﷺ کی سیرتِ پاک اور آپ ﷺ کا مثالی اسوۂ حسنہ امّت کے لیے رشد و ہدایت اور مشعلِ راہ ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ سرکارِ دو جہاں ﷺ ہر وقت اپنی زبان کی حفاظت فرماتے اور صرف کام ہی کی بات کرتے ۔آنے والوں کو محبت دیتے، ایسی کوئی بات یاکام نہ کرتے جس سے نفرت پیدا ہو ۔ قوم کے معزز فرد کالحاظ فرماتے اور اُسے قوم کا سردار مقرر فرما دیتے ۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے خوف کی تلقین فرماتے ۔ صحابہ کرام ؓکی خبر گیری فرماتے ۔ لوگوں کی اچھی باتوں کی اچھائی بیان کرتے اور اس کی تقویت فرماتے،بری چیز کو بری بتاتے اور اُس پر عمل سے روکتے ،ہر معاملے میں اِعتدال (یعنی میانہ روی)سے کام لیتے ۔ لوگوں کی اِصلاح سے کبھی بھی غفلت نہ فرماتے۔ آپ ﷺ اٹھتے بیٹھتے (یعنی ہر وقت) ذِکر اللہ کرتے رہتے ۔ جب کہیں تشریف لے جاتے تو جہاں جگہ مل جاتی، وہیں بیٹھ جاتے اور دوسروں کوبھی اسی کی تلقین فرماتے ۔ اپنے پاس بیٹھنے والے کے حقوق کا لحاظ رکھتے۔

آپ ﷺکی خدمت میں حاضر رہنے والے ہر فرد کو یہی محسوس ہوتا کہ سرکار ﷺ مجھے سب سے زِیادہ چاہتے ہیں ۔ خد متِ بابرکت میں حاضر ہوکر گفتگو کرنے والے کے ساتھ اُس وقت تک تشریف فرما رہتے ،جب تک وہ خود نہ چلا جائے ۔ جب کسی سے مصافحہ فرماتے(یعنی ہاتھ ملاتے) تو اپنا ہاتھ کھینچنے میں پہل نہ فرماتے ۔ سائل (یعنی مانگنے والے)کو عطا فرماتے، آپ ﷺکی سخاوت وخوش خلقی ہر ایک کے لئے عام تھی، آپﷺ کی مجلس حلم ، بُردباری، حیا، صبر اور اَمانت کی مجلس تھی ۔ آپ ﷺ کی مجلس میں شوروغل ہوتا نہ کسی کی تذلیل(یعنی بے عزتی) آپ ﷺ کی مجلس میں اگر کسی سے کوئی بھول چوک ہوجاتی تو اُسےشہرت نہ دی جاتی ۔

جب آپ ﷺکسی کی طرف متوجہ ہوتے تو مکمل توجہ فرماتے، آپ ﷺکسی کے چہرے پر نظریں نہ گاڑتے تھے ۔ آپ ﷺ شرم و حیا کے پیکر تھے ۔ سلام میں پہل فرماتے ۔ بچوں کو بھی سلام کرتے ۔ جوآپ ﷺ کو پکارتا، جواب میں لبیک(یعنی میں حاضرہوں )فرماتے ۔ اہلِ مجلس کی طرف پاؤں نہ پھیلاتے، اکثر قبلہ رو بیٹھتے ۔ اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہ لیتے ، برائی کا بدلہ برائی سے دینے کے بجائے معاف فرما دیا کرتے ۔ گفتگو میں نرمی ہوتی، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے نزدیک روزِ قیامت لوگوں میں سب سے براوہ ہے جسے اُس کی بدکلامی کی وجہ سے لوگ چھوڑدیں ۔

آپ ﷺ بات کرتے تو (اِس قدر ٹھہراو ٔ ہوتا کہ) لفظوں کو گننے والا گن سکتا تھا ۔ طبیعت میں نرمی تھی ۔ سخت گفتگو نہ فرماتے، کسی کو عیب نہ لگاتے، بخل نہ فرماتے،اپنی ذاتِ والا کو بالخصوص تین چیزوں ، جھگڑے ، تکبر اور بے کار باتوں سے بچا کر رکھتے ، کسی کا عیب تلاش نہ کرتے، صرف وہی بات کرتے جو(آپ ﷺ کے حق میں)باعث ثواب ہو ، مسافر یا اجنبی آدَمی کی سخت کلامی پر بھی صبر فرماتے ، کسی کی بات کو نہ کاٹتے، البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز کرنے لگتا تواُسے منع فرماتے یا وَہاں سے اُٹھ جاتے ۔

سادگی کا عالم یہ تھا کہ بیٹھنے کے لئے کوئی مخصوص جگہ بھی نہ رکھی تھی ، کبھی چٹائی پر توکبھی یوں ہی زمین پر بھی آرام فرما لیتے ، کبھی قہقہہ (یعنی اتنی آواز سے ہنسنا کہ دوسرے لوگ ہوں تو سُن لیں )نہ لگاتے ، صحابہ کرامؓ فرماتے ہیں : آپ ﷺ سب سے زیادہ مسکرانے والے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن حارثؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے زیادہ مسکرانے والاکوئی نہیں دیکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں