آہ! ڈاکٹرعبدالقدیرخان مرحوم

کل اتوار کی صبح سویرے پاکستان کے مایہ ناز سپوت ڈاکڑ عبد القدیر خان کی رحلت کی خبر نے جہاں پورے ملک کی فضاؤں کو سوگوار کر دیا وہاں ہر پاکستانی کادل کو بھی مغموم ہوئے بغیر ر ہ نہ سکا۔ناشتہ کرنے کے بعد ٹی وی آن کیا ِحسب معمول سب سے پہلے کعبہ شریف اور مسجد نبوی شریف لائیو دیکھنے کے بعد دیگر چینلز پر نظر یں دوڑیں تو محسن پاکستان ڈاکڑ عبدلقدیر خان کی رحلت کی خبر پر ٹک گئیں ۔بے شک یہ ایک عام خبر نہیں بلکہ پاکستان کیا پوری دُنیا کیلئے بہت بڑی او ر اہم ترین خبر تھی جس نے ملک بھر کی ٹی وی سکرینز کو جیسے بلاک سا کر دیا تھا ۔ہر چینل پر ایک ہی موضوع ڈاکڑ عبدلقدیر خان کا احاطہ کئے ہوئے تھا ۔چونکہ میں نے آج کسی اور سیاسی موضوع کا انتخاب کر رکھا تھا اُسکی بجائے اپنے محبوب ،محب وطن کو اپنے تئیں حقیر سا نذرانہ عقیدت پیش کرنے کی غرض سے اِنہی پر لکھنا شروع کر دیا جس کے دوران خیال آیا کہ مرحوم و مغفور صرف پاکستان ہی کے نہیں بلکہ وہ تو پورے عالم اسلام کے محسن تھے جنہیں ہر تبصرہ کار ،تجزئیہ کار الغرض کہ ہر بات کرنیوالاانہیں محسن ِ پاکستان تک ہی محدود کئے ہوئے ہے جو کہ اس عطیہ ء خداوندی کی لامحدود خدمات کی نفی سی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی تو شخصیت کی ہیبت ہی کچھ اور تھی ۔وہ ظالم تھے جابر تھے نہ ہی سفاک دہشتگرد مگر اسلام دشمنوں کی نیندیں حرام کئے بیٹھے تھے ۔ان کا تعلق القائدہ سے تھا نہ داعش سے اور نہ ہی وہ طالبان کے کسی گروہ کے امیر تھے مگر پھر بھی ہمہ وقت وہ یہود و نصاریٰ کے زہنوں پر خوف بن کر سوار رہتے تھے ۔اسی بناء پر اسلام دشمن طاقتیں انہیںدبوچنے کو ہمہ وقت تیار رہتیںتھیں مگروہ انہیں دبوچنے میں یکسر ناکام و نا مراد رہیں مگر دوسر ی جانب یہ امر بھی نہایت افسوس ناک ہے کہ عالم اسلام کو ایٹمی طاقت سے نوازنے پر عالم عرب و دیگر اسلامی ممالک کی طرف سے آج تک اُن کی شان میں ایک لفظ تک ادا کرتے نہیں سُنا سوائے پاکستان اور پاکستانیوں کے حالانکہ اِن کی خدمات جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ محض پاکستان ہی کیلئے نہیں پورے عالم اسلام کیلئے ہیں مگر یہ کہ اگر اس تناظر میں مزید جھانکا جائے توبات بہت آگے تک جا سکتی ہے اور چونکہ محسن اسلام کی رحلت کا مرحلہ ہے اس لئے اسے ملکی و عالمی سیاسی تناظر میں الجھائے بغیر بات کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے تناظر تک ہی محدود رکھتے ہیں ۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی پر وگرام کی داغ بیل 1954 ء میں ڈال دی گئی تھی مگریہ معمول کے مطابق آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہاتھا جس میں کوئی نیا پن یا یوں کہیے کہ کوئی New development سامنے نہیں آرہی تھی مگر جب 1973ء میں ہندوستان اپنے ایٹی پروگرام میں تیزی پیدا کرنے لگا تو یہ وہی وقت تھا جب محسن ِپاکستان محسن اسلام نے اُس وقت کے وز یر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھ کر انہیں بھارتی تیاریوں سے آگاہ کیا تو بھٹو شہید نے انہیں پاکستان آکر نہ صرف کام شروع کرنے بلکہ اس مقصد کیلئے فنڈز بھی فراہم کرنے کی یقین دھانی کروائی جس کے بعد محسن اسلام نے پاکستان آکر عالم اسلام کے پہلے ایٹمی پروگرام کو تقویت دیتے ہوئے اس میں جان ڈال دی اور یو ں وقت گزرتے گزرتے 28 مئی1998ء میں انہوں نے اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ بھارت کے چار ایٹمی دھماکوں کے جواب میں چھ ایٹمی دھماکے کر کہ اسے حیران ہی نہیں پریشان بھی کر دیا جبکہ دوسری طرف یہی وہ لمحہ تھا جس نے ملکی دفاع ہی کو نہ صرف ناقابل ِتسخیر بنادیا بلکہ پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت ہونے کا اعزاز بھی دلوا دیا تو ایسے میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر عبدلقدیر خان کو تو ہمیں سرآنکھوں پر بٹھانا چاہیے تھا مگر اُن کے ساتھ ا س عظیم تر قومی خدمات کے صلے میں جو کیا کیا گیا وہ بہت افسوسناک امر تھا مگر یہ ڈاکڑ صاحب کی خوش قسمتی کہ میر ظفر اللہ جمالی مرحوم اُن کے آڑے آگئے اور یوں اُن کی گلوخلاصی تو ہو گئی مگر یہ گلو خلاصی بھی قید و بندہی کی صورت میں ہوئی جو بہت عرصے تک جاری رہی اور جب طبیعت خراب ہونے لگی تو ایم ایچ تو کبھی کے آر ایل میں زیر علاج رہتے رہے جہاں سے کل 12اکتوبر 2021 ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ڈاکٹرعبدلقدیر خان کی خدمات صرف پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہی نہیں دیکھی جاتیں بلکہ پاکستان کے میزائل سسٹم کو بھی قاقتور اور جدید خطوط پر استوار کرنے کا کر یڈٹ بھی اُن ہی کے سر ہے ۔پاکستان کے غوری میزائل کاکامیاب تجربہ ڈاکڑعبدلقدیر خان ہی کے سر ہے جبکہ اسکے بعد اور یہ بھی کہ مستقبل میںمنظرعام پر آنے والے تمام تر جدید سستمیٹک میزائل کی تیاری اورکامیابیاں اِن ہی کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی کی مرہون ِمنت قرارپائیں گی۔ پاکستان کے ایٹمی قوت بن جانے پر ایک طرف پوری قوم خوشی سے معمور تھی تو دوسری طرف پاکستان دشمن قوتیں اِ س حقیقت پر حیران بھی تھیں کہ جو قوم بجلی پانی سمیت ہر سہولت کو ترس رہی تھی وہ ایٹمی طاقت کیسے بن گئی اس کی زندہ مثال امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما کی پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ہونے والی ملاقات سب کے سامنے ہے جس میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم سے حیرانگی کے عالم میں پوچھا کہ وزیر اعظم یہ بتائیں کہ جس ملک میں پانی نہیں بجلی نہیں وہ ملک ایٹمی طاقت کیسے بن گیا ۔تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان نے یہ جو اتنی بڑی طاقت حاصل کی ہے وہ خالی ہاتھوں حاصل کی ہے تو یہ بے جا نہیں ہوگا ۔اور آج یہی وہ طاقت ہے جسے زہن و نظر میں رکھتے ہوئے امریکہ سمیت اس کے چالیس سے زائد اتحادی ملکوں کی افواج پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی غرض پاکستان کی دہلیز طوخم بارڈر پر اپنے تمام تر جدید ترین جنگی سازو سامان سمیت آن کھڑی تو ہوئیں مگر اسی ایٹمی طاقت کے خوف سے اُن میں یہ دہلیز پار کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور اُن کے قوم جہاں تک پہنچے تھے وہیں رکے رہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں