آمد مصطفی کی پیشن گوئیاں

محمداشفاق انجم
حضرت محمدمصطفی احمد مجتبی ﷺ کے ظہورمبارک کا واقعہ دُنیا کے لئے اچانک اور غیرمتوقع نہیں تھا بلکہ اہل کتاب اس معود کے انتظار میں صدیوں سے چلے آرہے تھے‘ قرآن مجیدمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے آپ ﷺ کے ظہورمبارک کے لئے دُعا بیان کی ہے” اور وہ وقت یادکرو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھارہے تھے اور اُن کے ساتھ اسماعیل بھی” مقام اتنا مقدس کہ خانہ کعبہ کا فرش ہے وقت اتنا مبارک کہ عین تعمیرکعبہ کا زمانہ ہستیاں اتنی مقدس کہ دونوں اولوالعزم پیغمبربنے‘ پھر دُعا سے پہلے یہ کہا گیا کہ ہماری خدمت قبول کرلو” اے ہمارے پروردگارہم سے ہماری یہ خدمت قبول فرما بے شک تو خوب سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے” اس کے بعد کہا گیا ” اے ہمارے پروردگار ہم سے ہماری خدمت کے بدلے فرماں بردار بنا لے” یہ آرزو صرف فردواحدکے لئے نہیں تھی بلکہ ایک امت مسلمہ ایک فرمانبردار قوم اور قیامت تک قائم رہنے والے مذہب کی بنیاد بنا” اور ہماری نسل سے ایک امت بھی پیداکرجو تیری فرمانبردارہو” اس آیت میں یہ بات صراحت کے ساتھ بیان کردی گئی کہ حضرت محمدﷺ حضرت اسماعیل کی اولاد سے ہونگے نہ کہ حضرت اسحاق‘ پھر یہ رسول کیسا ہوقرآن حکیم اس بارے میں یوں بیان کرتا ہے” اے ہمارے پروردگار انہیں (بنی اسماعیل) میں سے ایک رسول بھیج جو تیری آیتیں انہیں پڑھ کر سنائے انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے ان کی اصلاح نفس کرے بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے” جب یہ رسول ظاہرہوچکا تو پھر یہ فرمایا ” وہ اللہ ہے جس نے امیین میں سے ایک رسول اٹھایا‘ جو انہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اُن کی اصلاح نفس کرتا ہے انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘ پھر قرآن نے یہ بھی واضح کردیا کہ ” اس کا ذکر یا اس کی خبر پچھلے صحیفوں میں بھی موجود ہے” پھر اس رسول کے اوصاف گزشتہ کتابوں کی وضاحت کی صورت میں قرآن مجیدمیں یوں بیان کردئیے ” جو لوگ پیروی کرتے ہیں اس رسول امیی کی اور نبی کی جس کے وصف میں وہ لکھاہوا پاتے ہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں اسی حکم کو دیکھتے ہیں انہیں نیک کرداری کے بارے میں بتاتے ہیں پاکیزہ چیزوں کو ان کے لئے جائز بناتے ہیں گندی چیز اُن پر حرام رکھتے ہیں‘ یہی اوصاف تورات اور انجیل میں بھی ہم دردپاتے ہیں‘ تحریف کے باوجود تورات میں حضرت موسی علیہ السلام کی زبان سے اسرائیلیوں کو یوں مخاطب کرتے ہیں ” خداوندتیرا تیرا خدا تیرے لئے تمہارے درمیان میں سے تیرے ہی بھائیوں کی مانند ایک نبی برپا کرے گا اور تم اس کی طرف کان دھرلو” تیرے ہی بھائی سے مراد بنی اسماعیل کی اولاد ہے‘ پھر تورات میں یوں گویا ہوتے ہیں ” اور خداوندنے مجھ سے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا اچھا کیا میں ان کے لئے ان کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی برپا کروں گااور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا‘ انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام اسرائیلیوں سے یوں بیان فرما رہے ہیں ” یسوع نے ان سے کہا کیا تم نے کتاب مقدس میں نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہوگیااور یہ خداوند کی طرف سے ہوااور ہماری نظرمیں عجیب ہے اس لئے کہ میں تم سے کہتا ہوں کہ ان کے خداکی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی‘ اس قوم کو جو اس کے پھل لائے دے دئیے جائیں گے اور یہ پتھر جہاں گرے گا اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے اور جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا‘ کتاب مقدس کا یہ فقرہ کہ پتھر جس کو ہمیشہ ردکیا گیا وہ اسماعیلی ہی ہے‘تورات اور انجیل میں جو حوالے ملتے ہیں قرآن مجیدنے بھی اس قسم کا حوالہ سورۃ صف میں موجود ہے” اور جب عیسی بن مریم نے کہا کہ اے اسرائیلیوں تمہارے پاس اللہ کا پیغمبرآیا ہوں تصدیق کرنے والا ہوں تورات کی بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آنے والے ہیں جس کا نام احمدہوگا پھر وہ جب ان کے پاس کھلی ہوئی آیات لے کر بولیں گے کہ یہ صریحی جادو ہے‘ جس قول کی جانب قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے کہ وہ موجودہ تحریف شدہ انجیل میں بھی موجود ہے” جو ابد تک تمہارے ساتھ رہے گا میں صاف اشارہ موجود ہے کہ اس کی شریعت دائمی ہوگی یہ سچائی کی روح ہوگا ”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں