آئندہ سال خوراک کی عالمی تجارت میں اضافے کا امکان ہے، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 22-2021 میں خوراک کی عالمی تجارت بلند ترین سطح پر پہنچ سکتی ہے۔ واقعہ ٹائم کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی تنظیم برائے زراعت و خوراک (ایف اے او) نے رپورٹ جاری کی جس میں کہا کہ 2021 کے اختتام تک خوراک کا عالمی درآمدی کا بل 17 کھرب 50 ارب ڈالرز سے زائد ہونا چاہیے۔ انہوں نے اسے گزشتہ سال کے مقابلے 14 فیصد سے زائد اضافہ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے نشاندہی کی کہ یہ اضافہ گزشتہ پیش گوئی سے 12 فیصد زیادہ ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 53 ممالک میں گھریلو اخراجات میں شہریوں کی آمدنی سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، ان اخراجات میں کھانا، ایندھن، پانی، رہائش جیسی ضروریات شامل ہیں۔ ایف اے او کی نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران رکاوٹوں کے باوجود بھی اشیائے خورونوش کی تجارت میں’لچک‘ کا مظاہرہ کیا گیا۔ تاہم ’قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے غریب ممالک اور صارفین کے لیے چیلنجز میں اضافہ کیا ہے‘۔ پاکستان ایک مرکزی زرعی ملک ہے لیکن یہ بھی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوا ہے، پاکستان میں مارکیٹنگ سال 22-2021 میں 2 کروڑ 70 لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی۔ تاہم یہ تعداد اب بھی ملکی کھپت اور بڑے ذخائر برقرار رکھنے کے لیے کم ہے۔

حال ہی میں امریکی محکمہ زراعت (یو ایس ڈی اے) کے غیر ملکی زراعت سروس ادارے نے رپورٹ شائع کی جس میں نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی آبادی میں سالانہ 2 فیصد اضافہ ہو رہا ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر مستقبل کے لیے وافر مقدار میں ذخائر برقرار رکھنا ضروری ہے، جس نے اسلام آباد کو گندم درآمد کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یو ایس ڈی اے نے کہا کہ پاکستان میں سال 22-2021 کے لیے گندم کی برآمدات کا تخمینہ 20 لاکھ ٹن ہے جو گزشتہ سال کی پیش گوئی پر برقرار ہے۔ یو ایس ڈی اے کی رپورٹ کے مطابق ’سال 2021 کے جون میں حکومت نے مالی سال 22-2021 کے لیے 30 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم 20 ستمبر تک صرف 57 ہزار ٹن گندم درآمد کی گئی تھی‘۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں حکومت نے مزید ایک لاکھ 10 ہزار ٹن گندم خریدی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ بین الاقوامی سطح پر اشیائے خورونوش کی بڑھتی قیمتوں اور فریٹ کی لاگت میں تین گنا اضافے سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک شدید متاثر ہوئے ہیں۔ دنیا کے ترقی پذیر ممالک کی مجموعی کھپت 40 فیصد ہے جبکہ ان کی خوراک کی درآمدی بل میں گزشتہ سال کے مقابلے 20 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ مصنوعات کے زمرے میں ترقی پذیر خطوں کو بنیادی ضروریات جیسا کہ اناج، جانوروں کی چربی، خوردنی تیل اور تیل کے بیج کی قیمت میں تیزی سے اضافے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ عالمی آؤٹ پُٹ کے مطابق ضروری اناج کی پیداوار بڑھنے کے امکانات مضبوط ہیں جبکہ کھپت کے پیش نظر اناج اور جانوروں کی خوراک کی اشیا مزید تیزی سے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سپلائی کے لیے تیل کے بیج اور اس سے بننے والی مصنوعات میں اضافہ ہوگا لیکن ان کے اختتامی سیزن کا ذخیرہ اوسطاً کم ہو سکتا ہے۔ تین سال کے مسائل کے بعد چینی کی عالمی پیداوار واپس اپنی سطح پر آئی ہے جبکہ گوشت اور دودھ کی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بالآخر فشریز اور آبی حیات کی پیداوار بھی دو فیصد بڑھنے کا امکان ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں